HEY 👋 ASSALAMUALAIKUM WA RAHMATULLAHI WABARAKATOHU WELCOME ALHAMDULILLAH ABOUT EVERYTHING 🤗 THANKS FOR VISITING OUR CHANNEL ☺️ IT'S A GREAT APPRECIATED THAT YOU HAVE TAKEN THE TIME TO LOOK AT MY EDITS 🥰 I HOPE YOU HAVE A GOOD TIME SCROLLING 😜 MAY ALLAH BLESS YOU WITH GOOD HEALTH AND HAPPINESS ALWAYS ❣️
Sunday, 6 September 2020
ایسا کہاں سے لاؤں تجھ سا کہیں جسے۔۔۔۔کاتبہ🖋️___صنوبر ناز
Sunday, 16 August 2020
Saturday, 25 July 2020
کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات صنوبر ناز
کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے آج عالمی میڈیا بھی اسلام کے دیئے ہوئے زیریں اصولوں کی تعریف کررہا ہے، اسلامی اصولوں کو ہی دنیا بھر میں جہاں جہاں کرونا وائرس پھیلا ہے، اپنایا گیا ہے، اسلام نے آج سے 14 سو سال پہلے ایسی وباء پھیلنے کے بارے میں بتایا کہ یہ کسی ایک آدمی سے دوسری آدمی میں منتقل ہوسکتی ہے پھیل سکتی ہے۔
صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ایک مقام پر آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھیل چکی ہے ۔تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے آپ نے عرض کی یا امیرالمومنین میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "کے جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کے وقت وہاں وباءپھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہوں جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کے لئے مت بھاگو”۔
ایک اور صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے کہ کوڑسے متاثرہ شخص سے اس طرح بھاگو کہ جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو۔ اب آئیے دوسری جانب جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ وباء نہیں پھیلتی کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” لا عدویٰ ولا طیرة” اس لاعدوی کی حقیقت یہ ہے کہ جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان فرمایا اس وقت زمانہ جاہلیت میں لوگ بیماری کو بیماری کی ذات کی وجہ سے متعدد تصور کرتے تھے نہ کہ اللہ تعالی کی قدرت و منشا کی وجہ سے ۔
مثال کے طور پر ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کو خارش پڑ گئی ہے ۔اور یہ ایک اونٹ ا سے دوسرے اونٹ میں پھیلی ہے ۔اور زمانہ جاہلیت میں ان کا تصور یہ تھا کہ یہ بیماری ایک اونٹ سے دوسرے اونٹ میں بذات خود منتقل ہوئی ہے یعنی اس نے اللہ تعالی کی مشیت و منشا نہیں ہے ۔تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ پہلے کو کس طرح بیماری لگی ہے ۔ یہ جولا عدوی والی حدیث مبارکہ ہے اس ساری حدیث مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ مشیت باری تعالی اور اللہ کی قدرت کو تسلیم نہیں کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان کو لگتی ہے ۔
یہ بیماری بذات خود بدلتی ہے ۔ اور یہ اوپر والی تمام احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اسلام وبا کے پھیلنے کو تسلیم کرتا ہے ۔ آج جو پوری دنیا میں یہ مسئلہ بنا ہوا ہے کرونا وائرس کے متعلق اس کے لئے بھی اختیاطی تدابیر وہی ہے جو میں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف والی روایت ذکر کی ہے ۔آج پوری دنیا میں احتیاطی تدابیر وہی استعمال کی جارہی ہیں۔ اہل ہند کو بھی چاہیے کہ اس بڑھتی ہوئی وبا کے بچاو کیلئے اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ جذباتی باتوں کے بجائے حکومت کے دئیے گئے لائحہ عمل پر عمل کریں۔
کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات
What Islam tells us about responding to deadly pandemics
Islamic rules over epidemics to protect people from death and sickness go back to the very early stages of the emergence of the monotheistic religion.
On many occasions, the Prophet Muhammed advised his companions to value their lives as the utmost importance over death in his numerous sayings (hadiths), urging people to stay away from places where there were epidemics.
“Our Prophet speaks about the concept of quarantine fourteen hundred years ago,” says Cafer Karadas, professor of divinity at Uludag University, referring to one of the widely known hadiths.
“When you hear that [a plague] is in a land, do not go to it and if it occurs in a land that you are already in, then do not leave it, fleeing from it,” the Prophet famously said.
“This saying exactly refers to the principle of modern quarantine. What it has been currently practiced [concerning the coronavirus outbreak] is the same principle as the advice of the Prophet,” Karadas told TRT World.
-
-
قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں جھگڑے سارے انا کے ہوتے ہیں بات نیت کی صرف ہے ورنہ وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں بھول جاتے ہیں م...





